


نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں کیونکہ کچھ ہی عرصہ بعد اس قوم کا سیاسی، سماجی ، معاشی و معاشرتی انتظام و انصرام مکمل طور پر نوجوانوں کے ہاتھوں میں منتقل ہو جانا ہوتا ہے۔ لہٰذا قوم کا نوجوان اگر جسمانی طور پر کاہل اور کمزور، ذہنی حوالے سے پسماندہ اور دقیانوس، اخلاقی طور پر غیر شائستہ اور غیرمتوازن ہو گا تو یقین کر لیجئیے ۔۔۔۔۔آپ کا مستقبل عروج کی بجائے غروب کی طرف لڑھک رہا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر آپ کا نوجوان جسمانی طور پر چاک و چوبند، ذہنی حوالے سے روشن خیال اور نئے اہداف کا شکاری اور اخلاقی حوالے سے شائستہ و متوازن ہو گا تو آپ کا مستقبل عروج کی طر ف رواں دواں ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے؟ کہ قوتوں، صلاحیتوں، حوصلوں، امنگوں، جفاکشی، بلندپروازی اور عزائم کا دوسرا نام جوانی ہے۔
کسی بھی قوم و ملک کی کامیابی و ناکامی، فتح و شکست، ترقی و تنزلی اور عروج و زوال میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم اور کلیدی ہوتا ہے۔ ہر انقلاب چاہے وہ سیاسی ہو، اقتصادی ہو، معاشرتی ہویا ملکی، سائنسی ہو یا اطلاعاتی و نشریاتی، سبھی میدانوں میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اگر نوجوانوں کی سوچ حضور جان ِرحمتﷺ کی رحمت بھری فکر کے زیرِسایہ پرورش پا رہی ہو گی تو ان کے اَنگ اَنگ سے سرزد ہونے والی حرکات و سکنات بھی رحمت آنگیں ہو ں گی۔ یوں معاشرتی توانائی کا سب سے بڑا بجلی گھر مثبت اور پاکیزہ قوتوں کا مرکز بن جائے گا اور اپنی بھرپور توانائی سے مصطفائی معاشرے کی آبیائی کا ذریعہ بن جائے گا۔