Mustafai Dashboard

مصطفائی ایوان خدمت


bismillah

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ انسان معاشرتی حیوان ہے ۔مل جل کر رہنااسکی مجبوری ہےکیونکہ اسکی ضرورتیں اتنی متنوع ہیں کہ آج تک کوئی بھی شخص اکیلا اپنے لیے کافی نہیں ہو سکا۔اسے بہر حال دوسروں کی ضرورت رہی ہےتاہم یہ ضرورتیں "ایک ہاتھ دو،ایک ہاتھ لو"کے اصول پر پوری ہوتی ہیں۔مگر وقت کا پہیہ کبھی کبھی یوں گھومتا ہے کہ ایک ہی دھوبی پٹکامیں دینے والا ہاتھ دینے کے قابل ہی نہیں رہتابلکہ لینے والا بن جاتا ہے ،ایسے میں اگر گھر،کنبہ،قبیلہ،محلہ اور معاشرہ دستگیری نہ کرے توریاست کو آگے آنا ہوتا ہے۔مگر موجودہ حالات میں ریاستیں فلاحی کم اورلوٹ کھسوٹ پرمبنی زیادہ ہیں۔لہذا ریاستوں کے اندر کچھ ادارے معرض وجود میں آجاتے ہیں جو ایسے بیمار ،لاچار اور نادارا فراد کی سہولت گا ہ کا کام کرتے ہیں۔گھر ،کنبہ اور قبیلہ کی عدم موجودگی نیز حکومت کی بے حسی کا شکاران افراد کا تکیہ معاشرے کے مخیر افراد اور یہ فلاحی ادارے ہوتے ہیں۔

فلاحی ادارے بھی مخیر حضرات کی مدد اور حکومتی امداد پر چلتےہیں۔جب سےعالمگیریت (globalization )کا عمل تیز ہوا ہے اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک بستی میں بدل دیا ہے تب سے دنیا بھر میں موجود فلاحی ادارے بھی مربوط ہو گئے ہیں۔اب کسی بھی زمینی یا آسمانی آفت کے وقوع پذیر ہونے پر دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں اور فلاحی ادارے آناً فاناً حرکت میں آجاتے ہیں اور آفت کی تباہ کاریوں کوکم از کم میں محدود اور بحالی کے عمل کو تیز تر کر کے زندگی کی رفتار دوبارہ بحال کر نے کی کوشش کرتے ہیں ۔یوں ان کی افادیت دوچند ہو گئی ہے۔کچھ بڑے فلاحی اداروں کے سالانہ بجٹ تو کئی غر یب ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ایسے ادارے غریب ممالک کو انتہائی ضروری مدات میں تعاون کے معاہدے کرتے ہیں اور حکومتیں ان سے مدد لینے پر مجبور ہوتی ہیں۔نتیجتاً وہ حکومتوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔