


کائنات اور زندگی کی ظاہری حقیقتوں کے پس پردہ کار فرما قوائدوقوانین کی منظم طریقے سے دریافت سائنس کہلاتی ہے اور انہی قوائدو قوانین کی مدد سے ایسی مشینوں کی ایجاد ،جو ہماری زندگیوں میں سہولت کاباعث بنیں، ٹیکنالوجی کہلاتی ہے۔بظاہر یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں لیکن حقیقتاً دونوں کا دائرۂ کار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔سائنس انسانی فکرو نظر اور عقائدو اخلاق سےمنسلک ہے جبکہ ٹیکنالوجی انسانی ضروریات کی سہولت کار ہے۔سائنس اپنی دریافتوں سے ہمیں کائناتی مظاہر کومنظّم ،مربوط اور منضبط کرنے والے اصولوں سے آگاہ کرتی ہے ،جس کے نتیجے میں بہت سارے خوف اور خوش گمانیاں نیزطرح طرح کے توہمات اور من گھڑت عقیدے دم توڑ دیتے ہیں۔نتیجتاًاتنی وسیع و عریض کائنات میں انسان خود کوپہلے سے زیادہ بے خوف اور توانا محسوس کرتا ہے ۔یوں تسخیر کائنات کا خواب دیکھنے والوں کے قدم زیادہ پُر امید اور تیز ہوجاتے ہیں۔
ٹیکنالوجی انہی دریافت شدہ اصولوں کی مدد سے ایسی ایجادات کرتی ہے جو انسانی زندگی میں کرشماتی تبدیلیوں کا باعث بنتی ہیں ۔ان ایجادات کی مدد سے ایک طرف انسانی زندگی کو لاحق بہت سارے خوف اور اندیشے ختم یا کم ہوتے ہیں تو دوسری جانب ایسی سہولتیں اور آسائشیں میسر آتی ہیں جو کچھ برس پہلے خواب وخیال تھیں ۔انسان ٹیکنالوجی کی مدد سے دن بدن ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن بنا رہاہےجس سے اس کے اپنے اعتماد اور استعدادکار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔کائنات کا کوئی کونہ اور گوشہ ایسا نہیں جو اس کی دسترس اور تصرفات کی زد میں نہ ہو ۔
ٹیکنالوجی کی اس روز افزوں ترقی نے جہاں انسانیت کی بے پناہ خدمت کی ہےاور اس کو لاحق خطرات کو بڑی چابک دستی سے توڑاہے وہاں اس نے خود انسان کو بہت ساری الجھنوں ،اندیشوں اور خطرات کی گرداب میں دھکیل دیا ہے۔سائنس کی دریافتوں اور ٹیکنالوجی کو ایجادات میں زمینی زندگی اور خود انسانی وجود کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے ۔معمولی لغزش ایک لمحے میں ارضی حیات کو تہس نہس کر سکتی ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ترقی کوانسانیت کی فلاح اور بقاء کے دائرے میں محدود رکھا جائے اور ہرایسی دریافت اور ایجاد کی حوصلہ شکنی کی جائےجو انسانیت کی فلاح اور بقاء کے لیے خطرہ بن سکتی ہو ۔