


معاشرہ انسانوں کا جنگل ہے اور اس میں بہت سارے طبقات ہیں، مثلاجنس کی وجہ سے، عمر کی وجہ سے، علم کی وجہ سے، پیشے کے اعتبار سے اور بے شمار وجوہات کی بناء پر یہ تقسیم و تفریق موجود رہتی ہے۔ ہر طبقے اور طبقے کے ہر فرد کے اپنے بنیادی و ضروری مفادات ہوتے ہیں۔ ان مفادات کے حصول کی کوششوں کے دوران باہم مسائل ،الجھنیں اور ٹکراؤ بلکہ تصادم کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جو کہ بالآخر معاشرتی بے چینی، بدامنی اور جنگ پر منتج ہوتی ہے۔ اس صورتحال کو جوں کا توں رہنے دیا جائے تو جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا ماحول جنم لیتا ہے جو کہ سراسر جنگل کا دستور ہے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ کچھ دائرے، حدیں یا رکاوٹیں پیدا کر لی جائیں جس سے ہر طبقہ اپنی ہی حد کے اندر رہے تا کہ دوسرے سے تصادم کی صورت پیدا نہ ہو اور معاشرہ امن، چین اور خاص ترتیب کے ساتھ اپنے فرائض بجا لاتا رہے تاکہ کرہ ارض ایک پرسکون جگہ بن سکے۔ ان دائروں، حدوں یا رکاوٹوں کو ہم قانون کہہ سکتےہیں۔زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وقف ہے لیکن اس کی اپنی زندگی۔۔۔
پرانے زمانے میں زندگی معاشروں تک محدود تھی۔ رسل و رسائل کے ذرائع میں ترقی سے معاشرے ،ملک اور ملک، بین الاقوامی صورت اختیار کر گئے۔ اب انسانوں نے ٹیکنالوجی کے استعمال سے سرحدیں توڑ ڈالیں اور کرہ ارض عالمی بستی کی صورت اختیار کر گیا۔ ترقی کے اس عمل نے انسان کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا۔ دن بدن بڑھتی قربت کے نتیجے میں باہمی روابط اور لین دین میں اضافہ ہوا تو مفاداتی ٹکراؤ میں بھی شدت آ گئی۔ لہٰذا معاشرتی امن کو برقرار رکھنے اور مفاداتی تصادم کی ممکنہ صورتوں کو کم ازکم درجے پر رکھنے کے لئے بین الاقوامی قوانین ناگزیر ہو گئے۔اس کی اپنی زندگی۔۔۔
معاشرتی ترقی کے دوران انسان نے جتنی آسائشیں دریافت کیں، اتنی ہی پیچیدگیاں بھی اس کی زندگی میں در آئیں۔ پھر ان پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لئے نئے قوانین واضح کرنے پڑے۔ یوں قوانین کا ایک انبار لگ گیا اور معاشرتی علوم میں ایک معتبر شعبہ علم قانون کا اضافہ ہو گیا۔ اب اس کا شمار ہر معاشرے میں نہایت اہم شعبہ زندگی (Profession) کے طور پر ہوتا ہے۔ اس شعبہ زندگی سے منسلک حضرات ہماری معاشرتی زندگی کا اہم ستون ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرتی برائیوں کی روک تھام میں ان کا کردار نہایت ہی اہم ہے۔ قانون کی عمل داری اور لاقانونیت کا خاتمہ ان کا بنیادی فرض ہے۔